شرم کرو

"السلام علیکم! کیسی ہو سارہ؟" نادیہ بولی۔
"ٹھیک ہوں۔ تم سناؤ۔" سارہ بولی۔
"الحمداللّٰہ۔ وہ دراصل پوچھنا یہ تھا کہ میرے چہرے پر کچھ عجیب سے دانے ہوں رہیں ہیں۔ اِن کا کوئی علاج بتاؤ۔''
        نادیہ ایک بیوہ عورت تھی۔ وہ اپنے خاندان کی بہوؤں میں سے سب سے نوجوان بہو تھی جس کا شوہر ایک بیٹا اور دو بیٹیاں چھوڑ کر اِس دنیا سے رخصت ہو گیا تھا۔ سارہ نادیہ کی خالہ زاد تھی۔ وہ ڈاکٹر تھی اور اِس بات پر اُسے فخر بھی تھا۔ نادیہ کے چہرے پر کچھ دانے ہوۓ تو اُس نے سارہ سے اُس کا حل پوچھا۔ 
''کیا! تمہیں بھی اب اپنی فکر ہے حالانکہ اب تو تم بیواہ ہو گئ ہو۔'' سارہ نے اپنے الفاظ تیر کے مانند نادیہ پہ نِچھاور کیے۔
            شرم آنی چاہیے اِس پڑھے لکھے معاشرے کو جو اپنے آپ کو پڑھا لکھا سمجھ کر فخر سے سر بلند کیے پھرتے ہیں۔ اسلام ہمیں اس چیز کی تو ہرگز  تعلیم نہیں دیتا.

Comments

Popular posts from this blog

میری موت