میری موت
موت میرے سامنے کھڑی مسکرا رہی تھی اور میں نے اپنی زندگی کی اُلٹی گنتی گننا شروع کر دی تھی۔ میں نہیں جانتی تھی کہ مزید میری کتنی سانسیں باقی تھیں؟ درد کی شدت ہوتی تو ایک ہی خواہش ہوتی کہ اب اور نہیں۔۔۔
بس اب موت آ ہی جائے۔۔۔۔
لیکن دوسری جانب وہ اہم کام یاد آتے جو کاش میں نے بہت پہلے ہی کر لیے ہوتے! مجھے اپنا بُھولا ہوا قرآن یاد کرنا تھا علاوہ ازیں بہت سے لوگوں کے دل بھی تو دُکھاۓ تھے میں نے، اُنہیں معافی کی درخواست بھی تو بِھجوانی تھی۔ میں اپنی حالت الفاظ کی صورت میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔
بہرحال یہ بیماری مجھے بہت سے اسباق دے گئی۔ وہ مجھے سِکھا گئی کہ مسلمان کی شان اِسی میں ہے کہ وہ ہر وقت اپنے رب سے ملاقات کے لیے تیار رہے، مجھے لوگوں کی شناخت کرا گئی۔ میری والدہ، میرے والد اور میرے بہن بھائی، یہی وہ لوگ ہیں جن کی قدر کرنا گویا مجھ پر واجب ہے۔
کہتے ہیں کہ وقت بہترین استاد ہے۔ اِس بات پر یقین ہو ہی گیا مجھے۔
وہ دوست جو کبھی کہا کرتے تھے کہ ''ہم ہر مشکل میں تمہارے ساتھ ہیں'' وہ آج میرے پاس موجود نہ تھے۔
''اے اللّٰہ! مجھے بس اتنا وقت دے کہ میں تجھ سے ملنے کی تیاری کرسکوں۔'' میں نے اپنے رب سے فریاد کی۔
میرے اللّٰہ نے مجھ ناچیز کی صدا سن لی اور مجھے ایک دوسری زندگی عطا کی۔ کاش کہ ہم اپنے پیاروں کی قدر کرنا سیکھ لیں اور ہم ہر گھڑی اپنے رب سے ملاقات کے لیے تیار رہیں۔
Zabardast
ReplyDelete