Posts

Showing posts from December, 2020

شرم کرو

"السلام علیکم! کیسی ہو سارہ؟" نادیہ بولی۔ "ٹھیک ہوں۔ تم سناؤ۔" سارہ بولی۔ "الحمداللّٰہ۔ وہ دراصل پوچھنا یہ تھا کہ میرے چہرے پر کچھ عجیب سے دانے ہوں رہیں ہیں۔ اِن کا کوئی علاج بتاؤ۔''         نادیہ ایک بیوہ عورت تھی۔ وہ اپنے خاندان کی بہوؤں میں سے سب سے نوجوان بہو تھی جس کا شوہر ایک بیٹا اور دو بیٹیاں چھوڑ کر اِس دنیا سے رخصت ہو گیا تھا۔ سارہ نادیہ کی خالہ زاد تھی۔ وہ ڈاکٹر تھی اور اِس بات پر اُسے فخر بھی تھا۔ نادیہ کے چہرے پر کچھ دانے ہوۓ تو اُس نے سارہ سے اُس کا حل پوچھا۔  ''کیا! تمہیں بھی اب اپنی فکر ہے حالانکہ اب تو تم بیواہ ہو گئ ہو۔'' سارہ نے اپنے الفاظ تیر کے مانند نادیہ پہ نِچھاور کیے۔             شرم آنی چاہیے اِس پڑھے لکھے معاشرے کو جو اپنے آپ کو پڑھا لکھا سمجھ کر فخر سے سر بلند کیے پھرتے ہیں۔ اسلام ہمیں اس چیز کی تو ہرگز  تعلیم نہیں دیتا.

میری موت

موت میرے سامنے کھڑی مسکرا رہی تھی اور میں نے اپنی زندگی کی اُلٹی گنتی گننا شروع کر دی تھی۔ میں نہیں جانتی تھی کہ مزید میری کتنی سانسیں باقی تھیں؟ درد کی شدت ہوتی تو ایک ہی خواہش ہوتی کہ اب اور نہیں۔۔۔  بس اب موت آ ہی جائے۔۔۔۔     لیکن دوسری جانب وہ اہم کام یاد آتے جو کاش میں نے بہت پہلے ہی کر لیے ہوتے! مجھے اپنا بُھولا ہوا قرآن یاد کرنا تھا علاوہ ازیں بہت سے لوگوں کے دل بھی تو دُکھاۓ تھے میں نے،  اُنہیں معافی کی درخواست بھی تو بِھجوانی تھی۔ میں اپنی حالت الفاظ کی صورت میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔  بہرحال یہ بیماری مجھے بہت سے اسباق دے گئی۔  وہ مجھے سِکھا گئی کہ مسلمان کی شان اِسی میں ہے کہ وہ ہر وقت اپنے رب سے ملاقات کے لیے تیار رہے، مجھے لوگوں کی شناخت کرا گئی۔ میری والدہ، میرے والد اور میرے بہن بھائی، یہی وہ لوگ ہیں جن کی قدر کرنا گویا مجھ پر واجب ہے۔  کہتے ہیں کہ وقت بہترین استاد ہے۔ اِس بات پر یقین ہو ہی گیا مجھے۔ وہ دوست جو کبھی کہا کرتے تھے کہ ''ہم ہر مشکل میں تمہارے ساتھ ہیں'' وہ آج میرے پاس موجود نہ تھے۔  ''اے اللّٰہ! مجھے بس اتنا وقت دے کہ ...